مشرقی اور مغربی تنقیدی تصورات کا تجزیاتی فہم رکھتے ہیں، اور ان کے اطلاق کے ضمن میں، ایک مخصوص نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ ان کے تنقیدی نقطہء نظر کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ دو ادب کو انسانی تجربے اور احساسات سے الگ نہیں دیکھتا۔ وہ ان تنقیدی تصورات پر سوال قائم کرتے ہیں، جو متن کے ہیئتی، اسلوبی اور تکنیکی وسائل ہی پر مرتکز ہوتے ہیں، اور اس دوران ، انسانی تجربے کو منہا کرتے چلے جاتے ہیں ۔ وہ تنقید کی اس خصوصیت کو شمیم حنفی کی تنقیدی تحریروں میں، پوری شدت اور کمال سے، بر سرِ عمل دیکھتے ہیں اور اپنے نقطہ نظر کے لیے توثیق حاصل کرتے ہیں۔ وہ شمیم صاحب کی تنقیدی تحریروں کا مطالعہ، گہری نظر سے اور نشاط انگیز احساس کے ساتھ کرتے ہیں۔ شمیم صاحب ، ادب سے تعلق ، رمی اور ثقافتی سے زیادہ، ایک شخصی ، احساساتی سطح پر قائم کرتے تھے۔ ان کے نزدیک ، ادب انسانی وجود کی سب سے ممتاز سرگرمی ہے ۔ اس امر کا احساس ادب کے مطالعات میں بھی دلایا جانا چاہیے۔ یعنی تنقید ، اس ولولے، تشویش ، رنج و راحت شکست و یکجائی کے جملہ احساسات کو گرفت میں لے ، جن سے کوئی فن پارہ وجود میں آتا ہے۔ اس بنا پر شمیم صاحب ، ان ادبی تحریروں کو الگ کرتے تھے، جن میں صناعی تو ہوتی ہے، ہستی کی آگ نہیں۔ سرورالہدیٰ ، شمیم صاحب کی یادوں اور باتوں کو لکھتے ہوئے ، شمیم صاحب کی تنقید کی اس خصوصیت کو نمایاں کرتے چلے جاتے ہیں۔ سرورالہدیٰ کی اس کتاب سے ہمیں یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ شمیم صاحب کی گفتگوؤں اور تحریروں میں ایک فطری ہم آہنگی تھی ۔ ان کا تنقیدی نقطہ نظر دنیا کو دکھانے کے لیے نہیں تھا، خود ان کے اپنے وجود کی ساخت کا لازمی حصہ تھا۔ وہ جس نرم روی سے ، ادب ، آرٹ ، موسیقی ، شخصیات ، تصورات پر بات کرتے تھے، نجی محفلوں اور ادبی مجالس میں ، اپنی تحریروں میں بھی اسی نرم ، شائستہ اسلوب کو برقرار رکھتے تھے ۔ طنز و تعریض اور تفاخر و تردید، ان کے رسمی و غیر رسمی اسلوب کا حصہ نہیں تھے۔ اس کتاب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ سرورالہدیٰ نے شمیم صاحب کی باتوں اور یادوں کی مدد سے، نصف صدی کے قریب عبد کی ادبی و جمالیاتی وفکری تاریخ کو بھی مرتب کر دیا ہے، ایک ایسے زاویے سے جو ادب اور انسانی تجربے کو تاریخ کے مرکز میں رکھتا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔ کہانی کے انداز ، رواں اور دل کش اسلوب میں لکھی گئی یہ کتاب، اردو ادب میں ایک گہ انقش قائم کرے گی۔ ناصر عباس نیّر





Reviews
There are no reviews yet.